صفحات

Monday, 6 December 2021

تعبیر کو ہی سپنا بنائے ہوئے گھومے

 تعبیر کو ہی سپنا بنائے ہوئے گھومے

یہ بوجھ اٹھانا تھا، اٹھائے ہوئے گھومے

جس شہر میں چلنا تھا ہمیں سر کو اٹھائے

اس شہر میں ہی سر کو جھکائے ہوئے گھومے

جانا تھا کہیں جھیل کے اس پار، مگر ہم

اس پار ہی پتوار اٹھائے ہوئے گھومے

جس دشت سے نکلے ہیں سبھی نام کما کر

اس دشت میں ہم خود کو بھلائے ہوئے گھوما

پوچھا تو کِئے لوگ کہ وہ کون ہے تنہا

اے دوست! تِرا نام چھپائے ہوئے گھومے


میر تنہا یوسفی

No comments:

Post a Comment