عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
خمارِ عشق میں مجھ سے پڑهی نہ جائے نماز
مگر یہ دل ہے کہ رہتا ہے مبتلائے نماز
بروزِ حشر میں اٹهوں بہ حالتِ سجدہ
مِرے حسینؑ سے بولو مجهے سکهائے نماز
نظر نہ آئے اگر تُو تو کیا نماز میں رنگ
تِرے خیال سے خالی پڑهی نہ جائے نماز
نظر کو میں نے ہمیشہ رکها ہے سجدے میں
بدن کو میں نے بنائے رکها ہے جائے نماز
تُو آ کے سجدہ تو کر اے محبتوں کے امام
کہ میرا دل تو ازل سے ہے بس برائے نماز
تِرے فرات نے ان کو وضو نہ کرنے دیا
یہاں پہ جتنے بهی آئے، تھے آشنائے نماز
پڑا ہوا ہے کٹا سر ہنوز سجدے میں
جبیں سے گونج رہی ہے صدا، کہ ہائے نماز
مجذوب ثاقب
No comments:
Post a Comment