صفحات

Wednesday, 1 December 2021

جو کبھی دوسروں پہ ہنستے رہے

 جو کبھی دوسروں پہ ہنستے رہے

خود خوشی کے لیے ترستے رہے

رات بھر تیری یاد کے بادل

میرے کمرے ہی میں برستے رہے

سانپ پالے جو آستینوں میں

عمر بھر خود مجھے ہی ڈستے رہے

مہہگی انسانیت ہے دنیا میں

آدمی تو ہمیشہ سستے رہے

جن پہ ہم نے بچھائے تھے کل پھول

کتنے پُر خار وہ ہی رستے رہے

اب تو ملتا نہیں ہے عکس ان کا

بن کے دھڑکن جو دل میں بستے رہے


لبنیٰ عکس

No comments:

Post a Comment