صفحات

Friday, 24 December 2021

دماغ ان کے تجسس میں جسم گھر میں رہا

 دماغ ان کے تجسس میں جسم گھر میں رہا

میں اپنے گھر ہی میں رہتے ہوئے سفر میں رہا

وہ خاک چھاننے والوں کا درد کیا جانے

تمام عمر جو محفوظ اپنے گھر میں رہا

میں ہمکنار کبھی ہو سکا نہ منزل سے

ہمیشہ حلقۂ اخلاق راہبر میں رہا

میں جس کے واسطے بھٹکا کیا زمانے میں

وہ اشک بن کے سدا میری چشمِ تر میں رہا

مٹا سکا نہ عداوت زمین پر انساں

کبھی خلا میں کبھی انجم و قمر میں رہا


انجم صدیقی

No comments:

Post a Comment