صفحات

Saturday, 1 January 2022

اور مجھے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی

 مجھے شرمندگی محسوس نہیں ہوتی


جو صدیاں بچھڑ چکی ہیں

میں ان میں زندہ رہتی ہوں

اور مجھے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی

سڑکوں پر تانگے کی ٹاپوں کی صدا اب بھی سنتی ہوں

جیسے محوِ سفر ہوں

اور ہوا میرے کانوں میں کچھ راز کہتی ہے

پھر کسی گاڑی کے ہارن کی صدا پر

چونک جاتی ہوں

میں جنگلوں کو تاراج کر کے سڑکیں بنتے دیکھتی ہوں

اور بے جان بدن لیے

جنگلوں کے نشان ڈھونڈھتی چلی جاتی ہوں

یہ راتوں رات کنکریٹ سے بنتے ہوئے دیو ہیکل پل

سڑکوں کو کشادہ کرنے کی خواہش میں

تنگ ہوتا ہوا عرصۂ حیات

ترقی کی آڑ میں

روح کو گھائل کرنے والے سودے

قطرہ قطرہ زندگی پینے والے

بے بسی سے دہائی دیتے ہوئے انگنت لوگ

جن کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو روندتے ہوئے

بڑے بڑے بلڈوزر

اور اب تو گٹر کی طرح

اُبلے پڑے ٹریفک کے اس تعفن زدہ ہجوم میں

کہیں پٹری کی سانسیں بھی اکھڑ رہی ہیں

ریل گاڑی کا انجن جانے کہاں رہ گیا ہے

چپ چاپ بچھڑی صدیوں میں پناہ لیتے ہوئے

مجھے شرمندگی محسوس نہیں ہوتی


عالیہ مرزا

No comments:

Post a Comment