صفحات

Monday, 17 January 2022

اشک جب دیدۂ تر سے نکلا

 اشک جب دیدۂ تر سے نکلا

ایک کانٹا سا جگر سے نکلا

پھر نہ میں رات گئے تک لوٹا

ڈوبتی شام جو گھر سے نکلا

ایک میت کی طرح لگتا تھا

چاند جب قید سحر سے نکلا

مجھ کو منزل بھی نہ پہچان سکی

میں کہ جب گردِ سفر سے نکلا

ہائے دنیا نے اسے اشک کہا

خون جو زخم نظر سے نکلا

اک اماوس کا نصیبہ ہوں میں

آج یہ چاند کدھر سے نکلا

جب اڑا جانبِ منزل اختر

ایک شعلہ مِرے پر سے نکلا


اختر امام رضوی

No comments:

Post a Comment