صفحات

Monday, 17 January 2022

خوابوں کی انجمن میں اجالا نہ ہو سکا

 خوابوں کی انجمن میں اجالا نہ ہو سکا

چاہا تھا پھر بھی آج سویرا نہ ہو سکا

احساس کی رگوں سے ٹپکتا رہا لہو

ہم کو کسی سے پیار دوبارہ نہ ہو سکا

آنسو مِرے مزاج کا حصہ تو بن گئے

جھکنا کسی بھی طور گوارا نہ ہو سکا

میں شمع انتظار فروزاں کئے رہی

چاہت کا اس طرف سے اشارہ نہ ہو سکا

مرنے کی آرزو میں شب و روز جل بجھے

نصرت کا زندگی سے کنارا نہ ہو سکا


نصرت چودھری

No comments:

Post a Comment