صفحات

Monday, 24 January 2022

ہے وادئ بطحا کی فضا اور طرح کی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ہے وادئ بطحا کی فضا اور طرح کی

چلتی ہے مدینے میں ہوا اور طرح کی

ہر بات کہی جاتی ہے اشکوں کی زباں میں

ہوتی ہے مواجہ میں دعا اور طرح کی

اے سائلو! یہ رحمتِ کونینؐ کا در ہے

ہوتی ہے یہاں بھیک عطا اور طرح کی

اے کاش ہو ایسی میرے افکار میں جدت

ہر روز کروں مدح و ثنا اور طرح کی

طاری ہے دلِ و جاں پہ عجب بسط کا عالم

لائی ہے خبر بادِ صبا اور طرح کی

جس شان سے چاہیں جسے سرکارؐ نوازیں

ہر کعب کی خاطر ہے ادا اور طرح کی

دیتا ہے سبق اشھد و اسھد کا تفاوت

ہوتی ہے مقرب کی خطا اور طرح کی

نازک ہے مزاج اس کا بہت نظم و غزل سے

ہے نعتِ نبیﷺ صنف ذرا اور طرح کی

شہزاد کو ہو جائے عطا رنگِ اویسی

عشاق میں ہو میری وفا اور طرح کی


شہزاد مجددی

No comments:

Post a Comment