صفحات

Monday, 17 January 2022

مدتوں جو رہے بہاروں میں

 مدتوں جو رہے بہاروں میں

آج وہ گھر گئے ہیں کانٹوں میں

میں کہ صحرا نورد ہوں لیکن

پرورش چاہتا ہوں پھولوں میں

عکس تیرا دکھائی دیتا ہے

بہتے پانی کی نرم لہروں میں

کھل گئے خواہشوں کے دروازے

پھر بھی کوئی نہیں ہے بانہوں میں

جو مہکتے ہیں خوشبوؤں کی طرح

لمس تیرا ہے ان گلابوں میں

کار فرما دکھائی دیتا ہے

میرا احساس میرے جذبوں میں

آج ہم سے بچھڑ گیا اختر

تذکرہ ہو رہا تھا لوگوں میں


اختر سعیدی

No comments:

Post a Comment