صفحات

Saturday, 1 January 2022

چلو ایسا بھی کرتے ہیں نئے فقرے بناتے ہیں

 چلو ایسا بھی کرتے ہیں، نئے فقرے بناتے ہیں

غزل میں مضطرب آنکھوں کو شادابی سکھاتے ہیں

چلو ایسا بھی کرتے ہیں، فسردہ خوف میں ہیں جو

شجاعت کی بلندی پر انہیں جینا سکھاتے ہیں

چلو ایسا بھی کرتے ہیں، فلک سے چاندنی لے کر

اندھیری بستیوں میں دیپ کی مانند سجاتے ہیں

چلو ایسا بھی کرتے ہیں، نا ممکن کو کریں ممکن

چلو صحرا کے آنگن میں گلابوں کو اُگاتے ہیں

چلو ایسا بھی کرتے ہیں، مداری سب وزیروں کو

سُدھر جاؤ کی ڈفلی پر سرِ محفل نچاتے ہیں

چلو ایسا بھی کرتے ہیں، روایت توڑ ڈالیں ہم

چلو آندھی کو نہلا کر سبھی پتھر جلاتے ہیں

چلو ایسا بھی کرتے ہیں، ڈبو کر برق میں جذبے

چلو دہشت کے باشندوں کو ہم کیا ہیں؟ بتاتے ہیں

چلو ایسا بھی کرتے ہیں، رہے نہ فاصلہ کوئی

رفاقت کو بڑھائیں اور بچھڑے دل ملاتے ہیں

چلو ایسا بھی کرتے ہیں، رفوگر آج بن جائیں

پھٹے جو پیرہن دل کے انہیں ٹانکے لگاتے ہیں

چلو ایسا بھی کرتے ہیں، گئی تاثیر لانے کو

اذانیں زہد و تقویٰ کی بلند کر کے سناتے ہیں

چلو ایسا بھی کرتے ہیں، نہ بیساکھی رہے کوئی

کٹے ہیں پنکھ جن کے، ان پرندوں کو اڑاتے ہیں

چلو ایسا بھی کرتے ہیں؛ اگر ہم کچھ نہ کر پائیں

تو ساگر اپنی ہی میت کو کاندھے پر اٹھاتے ہیں


ساگر اعجاز

No comments:

Post a Comment