صفحات

Monday, 17 January 2022

سلگ رہا ہے کوئی شخص کیوں عبث مجھ میں

 سلگ رہا ہے کوئی شخص کیوں عبث مجھ میں

بجھے گا کیسے ابھی شعلۂ نفس مجھ میں

عجیب درد سا جاگا ہے بائیں پسلی میں

عجب شرار‌ طلب سا ہے پیش و پس مجھ میں

میں شاخ شاخ سے لپٹوں شجر شجر چوموں

پنپ رہی ہے عجب لذت ہوس مجھ میں

نہ کوئی نقش یقیں ہے نہ کوئی عکس گماں

دھواں دھواں ہے ابھی سے نیا برس مجھ میں

نہ زیست کی کوئی ہلچل نہ موت ہی کی فغاں

ہے کہر کہر سا اک شہر بے حِرس مجھ میں

بس اک پرندہ سا پر پھڑپھڑا کے چیختا ہے

بہت اداس ہے اب موسم قفس مجھ میں

کبھی تو گزرے ادھر سے بھی تند موج ہوا

ہیں جمع کتنے ہی موسم کے خار و خس مجھ میں


عبداللہ کمال

No comments:

Post a Comment