صفحات

Monday, 24 January 2022

ذرا بتاؤ کہ میں نے دیا بنایا ہے

 ذرا بتاؤ کہ میں نے دِیا🪔 بنایا ہے

مجھے جلاؤ کہ میں نے دیا بنایا ہے

یقیں کرو کہ کبھی شاعری نہیں کی ہے

فریب کھاؤ کہ میں نے دیا بنایا ہے

قریب آؤ کہ تم بھی دِیے بنانے لگو

قریب آؤ کہ میں نے دیا بنایا ہے

خوشی مناؤ کہ تم نے بنائی ہے دولت

مذاق اڑاؤ کہ میں نے دیا بنایا ہے

اب اپنے سائے کو دیکھو گے دوستو کب تک

نظر گھماؤ کہ میں نے دیا بنایا ہے


خرم شاہ

No comments:

Post a Comment