صفحات

Sunday, 2 January 2022

اے سوز دروں رنگ وفا اور ہی کچھ ہے

 اے سوزِ دروں رنگِ وفا اور ہی کچھ ہے

اب دل کے دھڑکنے کی صدا اور ہی کچھ ہے

کوچے میں تِرے شورِ فغاں کم نہیں لیکن

درویشِ دعا گو کی صدا اور ہی کچھ ہے

دلکش ہے بہت پیرہن لالہ و گل بھی

لیکن تِرا انداز‌ِ قبا اور ہی کچھ ہے

جیسے کسی موسم کا گزر ہی نہ رہا ہو

کچھ دن سے زمانے کی ہوا اور ہی کچھ ہے

دور طرب انگیز چمن خوب ہے لیکن

بے حلقۂ گل رقصِ صبا اور ہی کچھ ہے

نذرانۂ جاں بھی نہیں حقدارِ توجہ

شاید تِرا دستورِ وفا اور ہی کچھ ہے

لہجے تو بہت شوخ ہیں رنگیں سخنوں کے

اطہر تِرا اسلوبِ نوا اور ہی کچھ ہے


اسحاق اطہر صدیقی

No comments:

Post a Comment