صفحات

Saturday, 1 January 2022

جھوٹے بہانے چھوڑ جاؤ

 جھوٹے بہانے چھوڑ جاؤ


میں جانتی ہوں کہ وقت بہت آگے نکل گیا ہے

اور میں بہت پیچھے رہ گئی ہوں

مجھے اس بات کا کوئی بھی شکوہ نہیں ہے

کہ تم کچھ بھی کہے سنے بغیر جا چکے ہو

پر یہاں بہت کچھ چھوڑ گئے ہو

وہ بھی اپنے ساتھ لے جاتے تو اچھا تھا

اک مشترکہ لمحہ تھا

اسے آدھا کر سکو تو

آدھا لے جاؤ اور آدھا چھوڑ دینا

وہ لمحہ بھی خیالی تھا

خیال کی تقسیم کیسے ہو گی

میں حساب کتاب میں بہت ہی کوری ہوں

سو یہ بھی تم پہ چھوڑتی ہوں

میرے بستر کی شکنوں میں کچھ بھی نہیں ہے

وصال کا ایک لمحہ بھی نہیں ہے

صرف چند سلوٹیں ہیں

شاید وقت انہیں ٹھیک کر دے گا

نہ بھی ٹھیک ہوئیں تو

نیند نہ بھی آئی تو

کیا لوگ سلوٹوں بھرے بستر پہ لیٹنا چھوڑ دیتے ہیں

کچھ روشنی کی بجھی ہوئی کرنیں ہیں

امیدوں کی راکھ ہے

اور اک وعدہ بھی آنے کا

جو کبھی پورا نہ ہونا تھا

اور بہت سی خموشی جو رگِ جاں سے لپٹی

ہر وقت کچوکے لگاتی رہتی ہے

بہت سی کڑوی کسیِلی باتیں ہیں

وہ سارے سوال جن کے جواب کبھی نہیں ملے

تمہارے اَن لِکھے خط جن کے جواب میں لکھتی رہی

میں ان کا کیا کروں گی

وہ بھی لے جانا

کہ یہ سب کچھ مجھے بہت ستاتا ہے

اپنے دُکھ درد

ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں جو چبھتی رہتی ہیں

یہ چبھن ہی زندگی کا کُل اثاثہ ہے

وہ سب میں نے رکھ لیا ہے

اور

ہاں، اک لفظ ہے

جو وفورِ جذبات میں تمہارے ہونٹوں سے پھسل گیا تھا

بس اسے چھوڑ دینا

میں تمہاری طرح پریکٹیکل نہیں ہوں

کہ مجھے اس شام کے جھٹپٹے میں

جینے کے لیے بہانوں کی ضرورت اب بھی پڑتی ہے

چاہے وہ جھوٹے ہی کیوں نہ ہوں


غزالہ محسن رضوی

No comments:

Post a Comment