صفحات

Sunday, 2 January 2022

اٹھا کے سر کو چلے خوبرو جوانی ہو

 اٹھا کے سر کو چلے خوبرو جوانی ہو

پھر اس کے ہاتھ میں اسلاف کی نشانی ہو

امیرِ شہر مِری آخری وصیت ہے

مجھے جو قتل کرے شخص خاندانی ہو

جہاں پہ فاختہ بے خوف گھونسلے سے اڑے

تِرے جہان میں ایسی بھی راجدھانی ہو

ہے شاعری کا اگر شوق تو ضروری ہے

سلیس لہجہ ہو اشعار میں روانی ہو

یہ سانپ بھی مِرے لاٹھی بھی اپنی بچ جائے

بتاؤ راستہ ایسا جو درمیانی ہو

حضور آپ کی آنکھوں نے بات چھیڑی تھی

یہ بات ختم بھی پھر آپ کی زبانی ہو

تمہارے جانے پہ کچھ اس طرح لگا ہے مجھے

کہ جیسے گھر میں کوئی مرگِ ناگہانی ہو

یہی ہے پیار کہ ہو دل میں بات پوشیدہ

ملو تو آنکھوں سے پھر اس کی ترجمانی ہو

مِری غزل پہ ہو گر تبصرہ تو یاد رہے

نہ خوش گمانی ہو آغا نہ بد گمانی ہو


جاوید آغا

No comments:

Post a Comment