صفحات

Sunday, 20 February 2022

جو صاف دل سے ملے گا وہ شاد ہووے گا

جو صاف دل سے ملے گا وہ شاد ہووے گا

ہمیں کسی سے بھلا کیوں عناد ہووے گا

ہم ایک ساتھ رہے ہیں تو پھر تمہارے پاس

مِرے خلاف تو کافی مواد ہووے گا

اب اس کے کوچہ و بازار سے نہیں لگتا

کبھی یہ شہر عروس البلاد ہووے گا

ذرا پکار کے دیکھیں تِرے محلے میں

ہمارا نام کسی کو تو یاد ہووے گا

ہمارے گاؤں کے استاد جی یہ کہویں تھے

وہ پاس ہو گا سبق جس کو یاد ہووے گا

وہ پچھلی رات کہیں چھوڑ آئی پازیبیں

اب ان کی آڑ میں دنگا فساد ہووے گا

کرے گا عشق کے جو بھی نئے جہاں دریافت

زمینِ دل کا وہی سِند باد ہووے گا

یہ طے ہوا ہے سفینے جلا دئیے جاویں

یہ کام پار اترنے کے بعد ہووے گا

حسن ہماری چھٹی حس ہمیں بتاوے گی

اگر خلوص کے پیچھے مفاد ہووے گا


احتشام حسن

No comments:

Post a Comment