جو صاف دل سے ملے گا وہ شاد ہووے گا
ہمیں کسی سے بھلا کیوں عناد ہووے گا
ہم ایک ساتھ رہے ہیں تو پھر تمہارے پاس
مِرے خلاف تو کافی مواد ہووے گا
اب اس کے کوچہ و بازار سے نہیں لگتا
کبھی یہ شہر عروس البلاد ہووے گا
ذرا پکار کے دیکھیں تِرے محلے میں
ہمارا نام کسی کو تو یاد ہووے گا
ہمارے گاؤں کے استاد جی یہ کہویں تھے
وہ پاس ہو گا سبق جس کو یاد ہووے گا
وہ پچھلی رات کہیں چھوڑ آئی پازیبیں
اب ان کی آڑ میں دنگا فساد ہووے گا
کرے گا عشق کے جو بھی نئے جہاں دریافت
زمینِ دل کا وہی سِند باد ہووے گا
یہ طے ہوا ہے سفینے جلا دئیے جاویں
یہ کام پار اترنے کے بعد ہووے گا
حسن ہماری چھٹی حس ہمیں بتاوے گی
اگر خلوص کے پیچھے مفاد ہووے گا
احتشام حسن
No comments:
Post a Comment