صفحات

Sunday, 20 February 2022

تیری ہر سوچ، ہر ادراک سے بالا تر ہے

 تیری ہر سوچ، ہر ادراک سے بالا تر ہے

یہ مِرا جسم، تِرے چاک سے بالا تر ہے

وہ ستارہ کہ مِری زیست ہے روشن جس سے

وہ ستارہ، سبھی افلاک سے بالا تر ہے

زر کا لالچ مجھے دیتے ہیں زمانے والے

پر تِرا ساتھ ہر املاک سے بالا تر ہے

اب بھی کربل میں ہیں روشن تِرے سجدوں کے نشاں

یہ وہ مٹی ہے، جو ہر خاک سے بالا تر ہے

یہ نشانی ہے مِرے جسم پہ مرشد کی عطا

میری گدڑی تِری پوشاک سے بالا تر ہے


انصر جاذب

No comments:

Post a Comment