ہم تو کہتے تھے دم آخر ذرا سستا نہ جا
لے، چلے ہم جان سے، مختار ہے اب جا نہ جا
لے دل بے تاب آتا ہے وہ کر لے عرض حال
دیکھتے ہی اس کی صورت اس قدر گھبرا نہ جا
تنگ ہو کر کس ادا سے وصل کی شب کو وہ شوخ
مجھ سے کہتا تھا کہ ہے ہے اس قدر لپٹا نہ جا
پاس آنا گر نہیں منظور تو آ آ کے شکل
از رہ شوخی مجھے تو دور سے دکھلا نہ جا
جاؤں جاؤں کیا کہے ہے بس لڑائی ہو چکی
پیار سے میرے گلے اب جان جاں لگ جا نہ جا
کیا سماں رکھتا ہے وہ محفل سے اٹھنا یار کا
اور اشاروں سے مِرا کہنا کہ؛ آ جا نا، نہ جا
کہتے ہیں؛ آتا ہے وہ اے جان بر لب آمدہ
تو خدا کے واسطے ٹک اور بھی رہ جا نہ جا
روٹھ کر جب مجھ سے وہ جاتا ہے تو کر ضبط آہ
پہلے تو کہتا ہوں میں؛ تو جان اب جا یا نہ جا
لوٹتا ہے جرأتِ! بے تاب جانے سے تِرے
یوں اسے تڑپا کے تو اے شوخ بے پروا، نہ جا
جرأت قلندر بخش
No comments:
Post a Comment