صفحات

Monday, 21 February 2022

جھیل کنارے چھم چھم کرتی اجلی بانکی ناروں پر

 جھیل کنارے چھم چھم کرتی اجلی بانکی ناروں پر

من کا سودا کر بیٹھے افسوس تِرے بنجاروں پر

یورپ میں ہم درویشوں نے درویشی کو دان کیا

سنگل کھائے، زہر پیا اور لوٹے پھر انگاروں پر

کل شب پھونکا کیسا جادوگر ہوں پر ان ناگوں نے

جسم جلے طنبورے باجے اوس گری بازاروں پر

صدیاں بیتی یسوع کو ان سنگینوں پر گاڑے ہوئے

کالے ڈھوڈھر کوے چیخے گرجوں کے میناروں پر

ریچھوں سے تھے جثے ان کے بھوتوں جیسے بھیس

برف گری تو پریاں اتریں دور انہیں کہساروں پر

گروی رکھا عہد وفا پھر سات سمندر پار چلے

تنہا بیٹھ کے خوب ہنسے ہم اپنے سانجھے داروں پر

عرش سے اتری ڈاچی پتھر دل والوں سے ہار گئی

سنگ تراشوں کی وہ بستی ریت ہوئی انگاروں پر


شعیب افضال

No comments:

Post a Comment