تم نہ مانو حضور دیتی ہے
شاعری اک شعور دیتی ہے
عشق وہ مے ہے جو کہ انساں کو
زندگی کا سرور دیتی ہے
پھول کی پتی چاہے ٹوٹی ہو
پھر بھی خوشبو ضرور دیتی ہے
بادشاہوں سے دور رہتا ہوں
بادشاہی غرور دیتی ہے
وہ مسیحائی خوب تر ہے جو
اندھی آنکھوں کو نور دیتی ہے
اس محبت کا کیا کہیں طارق
جو سزا بے قصور دیتی ہے
طارق ملک
No comments:
Post a Comment