اگرچہ ہر کسی میں پاسِ دلداری بہت ہے
اسیر عشق ہو جاؤ تو پھر خواری بہت ہے
پھر اس کی بزم سے پلٹا ہے یہ میخوار کہہ کر
کسی کی آنکھ سے پینے میں سرشاری بہت ہے ہے
ہوا نے آگ جنگل میں ہی بھڑکانی اگر ہو
دبی ہے راکھ میں جو ایک چنگاری بہت ہے
وہ اپنے آپ سے ملنے پہ آمادہ نہیں پر
ہر اک سے دوستی کرنے کی بیماری بہت ہے
چلو چل کر کسی کا درد بانٹیں ساتھ مل کر
کہ اپنی خو میں بچپن سے وضعداری بہت ہے
محبت کھیل ہرگز بھی نہیں ہے سوچ لینا
کہ اس میں اپنے سپنوں کی نگہداری بہت ہے
کھڑے ہیں زندگی کے موڑ پر ہم آج ایسے
کہ جیسے کوچ کر جانے کی تیاری بہت ہے
جو غم کی قید سے نکلے پھنسے شورش میں رضیہ
ہمارے بخت میں شاید گرفتاری بہت ہے
رضیہ سبحان
No comments:
Post a Comment