صفحات

Wednesday, 23 March 2022

رنج و الم اس دل کے مقابل کل بھی تھے اور آج بھی ہیں

رنج و الم اس دل کے مقابل کل بھی تھے اور آج بھی ہیں

صیادوں کی زد میں عنادل کل بھی تھے اور آج بھی ہیں

سنگ و صلیب و طوق و سلاسل، مکر و فریب و فتنہ و شر

عزم و یقیں کی راہ میں حائل کل بھی تھے اور آج بھی ہیں

لمحہ لمحہ بوجھل بوجھل،۔ شامِ الم تا صبحِ طرب

جادہ جادہ سخت مراحل کل بھی تھے اور آج بھی ہیں

بستی بستی گھوم رہے ہیں حرص و ہوس کے رسیا لوگ

اہلِ وفا پابندِ سلاسل کل بھی تھے اور آج بھی ہیں

دل کے شیشہ سے ٹکرا کر کتنے پتھر ٹوٹ گئے

شعلہ رُخانِ شہر تو قاتل کل بھی تھے اور آج بھی ہیں

چلتے چلتے ایک ڈگر پر کتنی صدیاں بِیت گئیں

پائے طلب بیگانۂ منزل کل بھی تھے اور آج بھی ہیں

سنگِ ستم سے کب رکتی ہے سچائی کی راہ عزیز

اہلِ جفا تو مدِ مقابل کل بھی تھے اور آج بھی ہیں


عزیز احمد بگھروی

No comments:

Post a Comment