آ مِلیں ایسی زندگانی میں
جیسے مِلتا ہے پانی پانی میں
دیکھ کر آپ کو ہُوا اتنا
فرق ہے درد کی روانی میں
صاحبِ عشق جانتے ہیں یہ
لُطف کتنا ہے لن ترانی میں
کہہ رہی ہے چمن کی وِیرانی
کہ ہُوئی بُھول باغبانی میں
مُفلسی کی ہی یہ عنایت ہے
ہم جو بُوڑھے ہُوئے جوانی میں
عابد علی خاکسار
No comments:
Post a Comment