صفحات

Wednesday, 23 March 2022

بنا کے تاج محل خود اسے گراؤں گا

 بنا کے تاج محل خود اسے گراؤں گا

محبتوں میں بغاوت ہے کیا دکھاؤں گا

قلم لگا کے عداوت کے پیڑ پودوں میں

جو شاخ صبر کا پھل دے وہی اگاؤں گا

اتر چکی ہے مِری روح میں شب ہجراں

میں اس کو ہجر کی منکوحہ اب بناؤں گا

غموں کی آنچ پر آنسو ابال کر اپنے

میں اپنے ضبط کی قوت کو آزماؤں گا

چلا ہوں باد مخالف میں ایک مدت سے

نہ چھیڑو مجھ کو وگرنہ تمہیں رلاؤں گا

کرو نہ فکر ستاروں کی چال جو بھی ہو

اٹھا کے چاند چکوری کے پاس لاؤں گا

لگا کے سینے سے میں راستوں کے یہ پتھر

خزاں میں گیت بہاروں کے گنگناؤں گا

میں تشنگی کو مٹانے کے واسطے صحرا

لبوں سے تیرے میں یہ آبلے لگاؤں گا

بھنور کے پیروں میں حسرت کے باندھ کر گھنگھرو

گر اختیار میں ہو گا تو میں نچاؤں گا

میں ایک موج‌‌ نسیمی ہوں بستیاں دل کی

سراب دشت تِرے سامنے بساؤں گا


نسیم شیخ

No comments:

Post a Comment