صفحات

Sunday, 20 March 2022

یہ جو کہتے ہیں کہ بیکار ہے کنکر پتھر

 یہ جو کہتے ہیں کہ بے کار ہے کنکر پتھر

اِک عجب شانِ کریمی کا ہے منظر پتھر

کبھی کمتر، کبھی برتر، کبھی رہبر پتھر

اور بھڑکتا بھی ہے یہ آگ سے جل کر پتھر

پیٹ بھوکا ہو اگر باندھ لو لے کر پتھر

غم مٹا دیتا ہے، رکھ لو جو یہ دل پر پتھر

ٹھو کروں میں جو پڑا ہے، تو ہے کمتر پتھر

اور اسے بت جو بنا لو تو ہے رہبر پتھر

جو تراشو اسے بھگوان کی صورت دے کر

پھر تو قیمت میں بھی یہ سب سے ہے بڑھ کر پتھر

کبھی کعبہ، کبھی گِرجا، کبھی ایوانوں میں

کہیں بوسہ، کہیں پوجا کا ہے منظر پتھر

کبھی جپتے ہیں پِرو کر اسے ہم مالا میں

کبھی پہنا گیا زیور میں سجا کر پتھر

کوکھ میں اس کی جواہِر بھی جنم لیتے ہیں

ہے یہ یاقوت و زمرد کا سمندر پتھر

کبھی سونا، کبھی چاندی کی چمک ہے اس میں

اور پہن لو جو کلائی میں تو زیور پتھر

کنکری بھی یہی، پتھر بھی یہی اور پہاڑ

شکل ہیر ے کی لیے ہے یہی جوہر پتھر

ایک آسان سا یہ موت کا سامان بھی ہے

یہ ہے مہلک بھی، ہلاکت بھی ہے، کھا کر پتھر

اسے توڑا گیا، جوڑا گیا دیواروں میں

اور آراستہ ہر گھر کے ہے اندر پتھر

کبھی کوٹا گیا سڑکوں پہ بچھانے کیلئے

کبھی ڈھالا گیا آتش میں جلا کر پتھر

اور بناتے ہیں کبھی راکھ کی صورت اس کو

سرد موسم میں انگیٹھی میں جلا کر پتھر

پالتا کوکھ میں اپنی ہے یہ حشرات الا رض

اس پہ کتنوں کا بسیرا ہے، یہ بستر پتھر

اور یہ ملتا ہے ہر رنگ میں، ہر صورت میں

ہے الگ شکل و جسامت میں یہاں ہر پتھر

سنگِ اسود ہے جو کعبے میں، یہی پتھر ہے

سنگِ مر مر ہے مساجد کے بھی در پر پتھر

سنگِ سُرمہ ہے یہ آنکھوں میں، سنگِ ماہی ہے

ہے دعا اوردواؤں میں موثر پتھر

سنگِ تُربت ہے یہ قبروں پہ، سنگِ پارس ہے

آخری گھر کا نشاں اور لبِ در پتھر

سنگِ خارا ہے یہ محلوں میں، سنگِ میل ہے یہ

راستہ بھی تو دکھاتا ہے یہ رہبر پتھر

خوش نصیبی کی بھی صورت ہے یہ لوگوں کیلئے

کچھ پہنتے ہیں بنانے کو مقدر پتھر

یہ سجاوٹ ہے درخشاں، یہی زینت بھی ہے

اِک عجب حسنِ بہاراں کا ہےپیکر پتھر


درخشاں صدیقی

No comments:

Post a Comment