پرکھوں کی یاد آتی ہے دالان دیکھ کر
دل بجھ گیا ہے اب اسے ویران دیکھ کر
پردہ منافقت کا ہر اک سُو بچھا دیا
دل رو پڑا ہے شہر کا رجحان دیکھ کر
اس دورِ مُفلسی نے عجب حال کر دیا
قیمت سبھی بتاتے ہیں میلان دیکھ کر
یہ عمر بھر کا روگ رہا میرے دوستو
ہم لوٹ آئے در پہ جو دربان دیکھ کر
سنسان سی حویلی میں رکھتے ہوئے قدم
دل خوش ہوا ہے آج پھر مہمان دیکھ کر
اکرام الحق
No comments:
Post a Comment