صفحات

Wednesday, 23 March 2022

پرکھوں کی یاد آتی ہے دالان دیکھ کر

 پرکھوں کی یاد آتی ہے دالان دیکھ کر

دل بجھ گیا ہے اب اسے ویران دیکھ کر

پردہ منافقت کا ہر اک سُو بچھا دیا

دل رو پڑا ہے شہر کا رجحان دیکھ کر

اس دورِ مُفلسی نے عجب حال کر دیا

قیمت سبھی بتاتے ہیں میلان دیکھ کر

یہ عمر بھر کا روگ رہا میرے دوستو

ہم لوٹ آئے در پہ جو دربان دیکھ کر

سنسان سی حویلی میں رکھتے ہوئے قدم

دل خوش ہوا ہے آج پھر مہمان دیکھ کر


اکرام الحق

No comments:

Post a Comment