صفحات

Tuesday, 22 March 2022

اب نہیں پہلی سی محبت

 اب نہیں پہلی سی محبت


مانگنا اب نہیں مناسب

پاس میرے جو ہے، بہت ہے

اب نہیں پہلی سی محبت

جیسی تیسی بھی ہے، بہت ہے

طور کی اب طلب نہیں ہے

میرے دل میں جو ہے، بہت ہے

خوابوں کو بھی سُلا دیا ہے

روٹی کی فکر ہے، بہت ہے

اب نہیں شرط زندہ ہونا

چل رہی سانس ہے، بہت ہے


حارث علی

No comments:

Post a Comment