اب نہیں پہلی سی محبت
مانگنا اب نہیں مناسب
پاس میرے جو ہے، بہت ہے
اب نہیں پہلی سی محبت
جیسی تیسی بھی ہے، بہت ہے
طور کی اب طلب نہیں ہے
میرے دل میں جو ہے، بہت ہے
خوابوں کو بھی سُلا دیا ہے
روٹی کی فکر ہے، بہت ہے
اب نہیں شرط زندہ ہونا
چل رہی سانس ہے، بہت ہے
حارث علی
No comments:
Post a Comment