صفحات

Sunday, 20 March 2022

یوں تو ہر سمت صداؤں کا جہاں بولتا ہے

 یوں تو ہر سمت صداؤں کا جہاں بولتا ہے

پر جسے ہم نے پکارا وہ کہاں بولتا ہے

مامتا پھول سی کھل اٹھتی ہے اس روز کہ جب

اس کا بچہ اسے پہلی دفعہ ماں بولتا ہے

کچھ خبر لو کہ مِرے شہر پہ کیا گزری ہے

گل بداماں نہ کوئی شعلہ بجاں بولتا ہے

کیسے صدمات کا مارا ہوا وہ شخص ہے جو

عام سی بات بہ اندازِ فغاں بولتا ہے

دامِ خوشبو میں جو رہتا تھا کبھی ہنستا ہوا

آج سنتے ہیں وہ اشکوں کی زباں بولتا ہے

جب کبھی بانٹنے لگتا ہے نئے موسم وہ

کیوں کسی نام پہ ہر بار خزاں بولتا ہے


نورین طلعت عروبہ

No comments:

Post a Comment