چاند کو چاند کہا تارے کو تارا میں نے
نہ لیا جھوٹ کا غزلوں میں سہارا میں نے
لذتِ وصل سے محرومی کا شکوہ کیوں ہو
عرصۂ ہجر بصد شوق گزارا میں نے
بے ادب اور غروری رہا میں، عشق میں بھی
آپ کہہ کر کبھی اس کو نہ پکارا میں نے
کشتیاں کتنی ہی ہوتی رہیں غرقاب، مگر
شرکتِ غیر سے پکڑا نہ کنارا میں نے
قدر کر میری، کہ اک دید کی خاطر تیری
مسترد کر دیا ہر ایک نظارا میں نے
جو بھی کہنا ہوا مجھ کو، وہ سر بزم کہا
آنکھوں آنکھوں سے کیا کب ہے اشارا میں نے
پہلے کے زخم ذرا بھر بھی نہ پاٸے تھے ابھی
کر لیا عشق کہیں اور دوبارا میں نے
رکھ دیا کھینچ کے اشعار میں درد و غم دل
آٸینے میں گویا اک نقش اتارا میں نے
ناز و انداز مجھے وہ ہیں دکھاتے ثاقب
جن کی زلفوں کو شب و روز سنوار میں نے
ثاقب ندیم
No comments:
Post a Comment