لپٹ کر خشک پتوں سے ہوائیں بین کرتی ہیں
برس کر بانجھ دھرتی پر گھٹائیں بین کرتی ہیں
کہیں ڈھولک جو بجتی ہے تو اک اجڑی حویلی میں
کسی ناکام الفت کی وفائیں بین کرتی ہیں
تمہیں معلوم ہے مہتاب کو جب داغ لگتا ہے
پہن کر ماتمی کپڑے فضائیں بین کرتی ہیں
سنا ہے تُو پشیماں ہے گنوا کر وصل کے لمحے
سنا ہے رات دن تیری انائیں بین کرتی ہیں
تمہارے فیصلے پر ناچتے ہیں جھوٹ کے سائے
ہماری بے گناہی پر سزائیں بین کرتی ہیں
جبیں سجدے میں رکھتا ہوں تو بن کر اشک پلکوں پر
مرے تاریک ماضی کی خطائیں بین کرتی ہیں
کسی کے گھر میں رقصاں ہے گلابوں کی مہک دائم
کسی کے سونے آنگن میں خزائیں بین کرتی ہیں
دائم بٹ
No comments:
Post a Comment