صفحات

Sunday, 20 March 2022

لپٹ کر خشک پتوں سے ہوائیں بین کرتی ہیں

 لپٹ کر خشک پتوں سے ہوائیں بین کرتی ہیں

برس کر بانجھ دھرتی پر گھٹائیں بین کرتی ہیں

کہیں ڈھولک جو بجتی ہے تو اک اجڑی حویلی میں

کسی ناکام الفت کی وفائیں بین کرتی ہیں

تمہیں معلوم ہے مہتاب کو جب داغ لگتا ہے

پہن کر ماتمی کپڑے فضائیں بین کرتی ہیں

سنا ہے تُو پشیماں ہے گنوا کر وصل کے لمحے

سنا ہے رات دن تیری انائیں بین کرتی ہیں

تمہارے فیصلے پر ناچتے ہیں جھوٹ کے سائے

ہماری بے گناہی پر سزائیں بین کرتی ہیں

جبیں سجدے میں رکھتا ہوں تو بن کر اشک پلکوں پر

مرے تاریک ماضی کی خطائیں بین کرتی ہیں

کسی کے گھر میں رقصاں ہے گلابوں کی مہک دائم

کسی کے سونے آنگن میں خزائیں بین کرتی ہیں


دائم بٹ

No comments:

Post a Comment