صید ہیں تو کبھی صیاد ہیں تیری یادیں
جتنا ہو سکتی ہیں آزاد ہیں تیری یادیں
بس یہیں آنکھ کے صحرا سے ذرا آگے ہے
وہ خرابہ جہاں آباد ہیں تیری یادیں
خواب ریزوں سے یہ جو شہرِ غزل ابھرا ہے
اس نئے شہر کی بنیاد ہیں تیری یادیں
مجھ کو ہنستے ہوئے رونا بھی بہت آتا ہے
کرب آمیز سکوں زاد ہیں تیری یادیں
تو مِری آنکھ کے حلقوں کو نہیں سوچا کر
آنکھ کے گرد یہ آباد ہیں تیری یادیں
ان کے بہلانے کو سگریٹ میں لہو پھونکتا ہوں
پھر بھی ناشاد کی ناشاد ہیں تیری یادیں
اب تو مسجد میں بھی یہ ساتھ چلی آتی ہیں
اب تو لگتا ہے کہ ہمزاد ہیں تیری یادیں
عشق وہ طرزِ غزل ہے جو لہو مانگتا ہے
ہجر ہے رنگِ سخن داد ہیں تیری یادیں
تجھ سے ہو کر میں کہیں اور نکل جاتا ہوں
تجھ سے پہلے کی بھی روداد ہیں تیری یادیں
ایسے یہ دل کو ہلا دیتی ہیں لمحہ بھر میں
جیسے مظلوم کی فریاد ہیں تیری یادیں
بدر میں کون ہوں کیا ہوں مجھے کچھ یاد نہیں
لمحے لمحے کی مگر یاد ہیں تیری یادیں
نعمان بدر
No comments:
Post a Comment