صفحات

Friday, 22 April 2022

اترا ہے پچپن برسوں کے روشن زینوں سے

 اترا ہے پچپن برسوں کے روشن زینوں سے

یہ جو نور کا بور ہے مجھ پر چند مہینوں سے

کھل کر بات کروں گا خیر کے امکانات پہ میں

شہرِ خواب سے ہجرت پر مجبور مکینوں سے

میں نے اینٹ کا تکیہ رکھا خاک کی چادر پر

کون ہٹاتا اٹھ اٹھ کر جوتے قالینوں سے

گاہے گاہے چونک اٹھتا ہوں خود میں بیٹھا میں

ایسی آہٹ آتی ہے اعصاب کے زینوں سے

جانے مجھ کو عہدِ حاضر کیسے لیتا ہے

اسے ملا ہوں ماضی کے غرقاب سفینوں سے

ان کی رائے گہن زدہ ہے آپ کے بارے میں

جن کا واسطہ پڑتا ہے مہتاب جبینوں سے

میں نے غالب اور فیصل کو پڑھ کر سیکھا ہے

کام قدیمی جاری رکھنا نئے قرینوں سے


کبیر اطہر

No comments:

Post a Comment