صفحات

Friday, 22 April 2022

یہ جو تنہائی ملی آنکھ میں دھرنے کے لیے

 یہ جو تنہائی ملی آنکھ میں دھرنے کے لیے

اس میں اک دشت بھی ہے میرے گزرنے کے لیے

جمع کرتی ہے مجھے رات بہت مشکل سے

صبح کو گھر سے نکلتے ہی بکھرنے کے لیے

پاؤں سے لپٹی ملی ساری کی ساری یہ زمیں

یہ فلک پورا ملا آنکھ میں دھرنے کے لیے

اور پھر کرنا پڑا گوشت کو ناخن سے جدا

یہ ضروری تھا کسی زخم کو بھرنے کے لیے

تھی وہ اک تیز ہوا اونچا مجھے لے آئی

اب زمیں تنگ سی لگتی ہے اترنے کے لیے

بات کیسی بھی ہو پل بھر کی ندامت کے سوا

خرچ آتا ہے بھلا کتنا مُکرنے کے لیے

اور پھر ایسا ہوا سامنے میرے شاہین

جھوٹ کے پاؤں نکل آئے ٹھہرنے کے لیے


جاوید شاہین

No comments:

Post a Comment