صفحات

Thursday, 7 April 2022

ہو کے دنیا میں بھی دنیا سے رہا اور طرف

 ہو کے دنیا میں بھی دنیا سے رہا اور طرف

دل کسی اور طرف، دستِ دعا اور طرف

اک رجز خواں ہنرِ کاسہ و کشکول میں طاق

جب صفِ آرا ہوئے لشکر تو ملا اور طرف

اے بہر لمحہ نئے وہم میں الجھے ہوئے شخص

میری محفل میں الجھتا ہے، تو جا اور طرف

اہلِ تشہیر و تماشا کے طلسمات کی خیر

چل پڑے شہر کے سب شعلہ نوا اور طرف

کیا مسافر تھا سفر کرتا تھا اس بستی میں

اور لو دیتے تھے نقشِ کفِ پا اور طرف

شاخِ مژگاں سے جو ٹوٹا تھا ستارہ سرِ شام

رات آئی تو وہی پھول کھلا اور طرف

نرغۂ ظلم میں دکھ سہتی رہی خلقتِ شہر

اہلِ دنیا نے کیے جشن بپا اور طرف


افتخار عارف

No comments:

Post a Comment