وہ جب بھی حکم کرے مجھ کو دھر لیا جائے
ملے نہ جرم تو کچھ فرض کر لیا جائے
بدن میں ہی نہیں سائے میں بھی مقیم ہوں میں
کھڑا بھی ہوں تو مجھے خاک پر لیا جائے
چلو یہ سوچ کا کچھ بوجھ بانٹ لیں ایسے
کہ دل کو بیچ کے اک اور سر لیا جائے
خلوص سود پہ دیتا ہوں صاحبو سن لو
میں لوں گا دوگنا یہ جس قدر لیا جائے
چرا رہا تھا ابھی تک سو کم لیا ہے تجھے
تو اذن دے تو تجھے بیشتر لیا جائے
ہوا کی ریت میں رِس جائے گی یہ بات کی بوند
اسے دماغ کی بوتل میں بھر لیا جائے
عزم الحسنین عزمی
No comments:
Post a Comment