صفحات

Friday, 22 April 2022

وہ جب بھی حکم کرے مجھ کو دھر لیا جائے

 وہ جب بھی حکم کرے مجھ کو دھر لیا جائے

ملے نہ جرم تو کچھ فرض کر لیا جائے

بدن میں ہی نہیں سائے میں بھی مقیم ہوں میں

کھڑا بھی ہوں تو مجھے خاک پر لیا جائے

چلو یہ سوچ کا کچھ بوجھ بانٹ لیں ایسے

کہ دل کو بیچ کے اک اور سر لیا جائے

خلوص سود پہ دیتا ہوں صاحبو سن لو

میں لوں گا دوگنا یہ جس قدر لیا جائے

چرا رہا تھا ابھی تک سو کم لیا ہے تجھے

تو اذن دے تو تجھے بیشتر لیا جائے

ہوا کی ریت میں رِس جائے گی یہ بات کی بوند

اسے دماغ کی بوتل میں بھر لیا جائے


عزم الحسنین عزمی

No comments:

Post a Comment