ہونا غروب چاہے ہے سورج جو ڈھل گیا
کر دیں گے ہم بھی کوچ کل جو کل تھا کل گیا
ساقی کی چشم ناز کی جادو نگاہیاں
مستی میں میرے ہاتھ سے ساغر پھسل گیا
وہ رشک گلستان کیا جلوہ نما ہوا
چشم زدن میں شہر کا منظر بدل گیا
دیکھے اسے وہ طاقت دیدار ہو جسے
اپنا تو اک نظر میں کلیجہ نکل گیا
حالانکہ اس نے ٹوکا تھا مجھ کو بہ رسم و راہ
اس کے حضور میں بھی مگر سر کے بل گیا
کرتا تھا ذکر روز جو حوران خلد کا
دیکھی زمیں کی حور تو زاہد اچھل گیا
اس عہد تیز گام میں دیتا ہے کون ساتھ
کر شکر ساز ناتواں اتنا تو چل گیا
ساز دہلوی
No comments:
Post a Comment