صفحات

Friday, 22 April 2022

اب کے بھی دن بہار کے یوں ہی چلے گئے

اب کے بھی دن بہار کے یوں ہی چلے گئے

پھر پھر گُل آ چکے پہ سجن تم بھلے گئے

پوچھے ہے پھول و پھل کی خبر اب تُو عندلیب

ٹوٹے، جھڑے، خزاں ہوئی، پھولے پھلے، گئے

دل خواہ کب کسی کو زمانے نے کچھ دیا

جن کو دیا کچھ اس میں سے وے کچھ نہ لے گئے

اے شمع! دل گداز کسی کا نہ ہو کہ شب

پروانہ داغ تجھ سے ہوا، ہم جلے گئے

سودا کوئی بھی دیوے ہے ایسا دل ان کے ہاتھ

لاکھوں ہی دل قدم تلے جن کے مَلے گئے


مرزا رفیع سودا

No comments:

Post a Comment