صفحات

Friday, 22 April 2022

جس نے تری آنکھوں میں شرارت نہیں دیکھی

 جس نے تِری آنکھوں میں شرارت نہیں دیکھی 

وہ لاکھ کہے اس نے محبت نہیں دیکھی 

اک روپ مِرے خواب میں لہرا سا گیا تھا 

پھر دل میں کوئی چیز سلامت نہیں دیکھی 

آئینہ تجھے دیکھ کے گلنار ہوا تھا 

شاید تِری آنکھوں نے وہ رنگت نہیں دیکھی 

یوں نقش ہوا آنکھ کی پتلی پہ وہ چہرہ 

پھر ہم نے کسی اور کی صورت نہیں دیکھی 

خیرات کیا وہ بھی جو موجود نہیں تھا 

تُو نے تہی دستوں کی سخاوت نہیں دیکھی 

صد شکر گزاری ہے قیامت تنِ تنہا 

اس رات کسی نے مِری حالت نہیں دیکھی 

کیا تجھ سے کہیں کیسے کٹی کیسے کٹے گی 

اچھا ہے کہ تُو نے یہ مصیبت نہیں دیکھی 

شاید اسی باعث وہ فروزاں ہے ابھی تک 

سورج نے کبھی رات کی ظلمت نہیں دیکھی 

سب کی طرح تُو نے بھی مِرے عیب نکالے 

تُو نے بھی خدایا! مِری نیت نہیں دیکھی 

تنکا ہوں مگر سیل کے رستے میں کھڑا ہوں 

اے بھاگنے والو! مِری ہمت نہیں دیکھی 

جو ٹھان لیا دل میں وہ کر گزرا ہوں شہزاد 

آئی ہوئی سر پر کوئی آفت نہیں دیکھی 


شہزاد احمد

No comments:

Post a Comment