صفحات

Friday, 22 April 2022

کہنے کو اس سے عشق کی تفسیر ہے بہت

 کہنے کو اس سے عشق کی تفسیر ہے بہت

پڑھ لے تو صرف آنکھ کی تحریر ہے بہت

تخلیل کر کے شدت احساس رنگ میں

بن جائے گر تو ایک ہی تصویر ہے بہت

دستک سے در کا فاصلہ ہے اعتماد کا

پر لوٹ جانے کو یہی تاخیر ہے بہت

بیٹھا رہا وہ پاس تو میں سوچتی رہی

خاموشیوں کی اپنی بھی تاثیر ہے بہت

تعمیر کر رہا ہے محبت کا وہ حصار

میرے لیے خلوص کی زنجیر ہے بہت

میں اس سے اپنی بات کہوں، شعر لکھ سکوں

الفاظ دے وہ جن میں کہ ثاثیر ہے بہت


فاطمہ حسن

No comments:

Post a Comment