کہنے کو اس سے عشق کی تفسیر ہے بہت
پڑھ لے تو صرف آنکھ کی تحریر ہے بہت
تخلیل کر کے شدت احساس رنگ میں
بن جائے گر تو ایک ہی تصویر ہے بہت
دستک سے در کا فاصلہ ہے اعتماد کا
پر لوٹ جانے کو یہی تاخیر ہے بہت
بیٹھا رہا وہ پاس تو میں سوچتی رہی
خاموشیوں کی اپنی بھی تاثیر ہے بہت
تعمیر کر رہا ہے محبت کا وہ حصار
میرے لیے خلوص کی زنجیر ہے بہت
میں اس سے اپنی بات کہوں، شعر لکھ سکوں
الفاظ دے وہ جن میں کہ ثاثیر ہے بہت
فاطمہ حسن
No comments:
Post a Comment