صفحات

Tuesday, 7 June 2022

بدیار عشق تو مانده ام ز کسی نديده عنايتی

 بدیار عشق تو مانده ام، ز کسی نديده عنايتی

بہ غريبيم نظری فگن، کہ تو پادشاه ولايتی

میں تیرے عشق کے دیار میں رہنے والا ہوں، میں نے کسی کی عنایت نہیں دیکھی

میری غریبی اور مسکینی پہ ایک نظر کر، کہ تو ایک جہان اور مملکت کا مالک ہے

گنہی بود مگر ای صنم کہ ز سر عشق تو دم زنم

فہجرتنی و قتلتنی و اخذتنی بجنايتی

اے محبوب! کیا تمہارے عشق کا دم بھرنا کوئی گناہ کی بات ہے 

کہ تم مجھے اس طرح فراق میں چھوڑتے، قتل کرتے اور میرے جرم پر مواخذہ کرتے ہو

شُده راه طاقت و صبر طے، بکشم فراق تو تا بکی

ہمہ بند بند مرا چوں نے بود از غم تو حکايتی

اب صبر و طاقت کہاں، تمہارے فراق کو کب تک برداشت کروں

میرے بدن کا ہر بند بانسری کی مانند تمہارے غم کی حکایت سنا رہا ہے

عجزالعقول لدرکہ ہلک النفوس لوہمہ

بہ کمال تو کہ برد رہی نبود بجز تو نہايتی

عقلیں اس کے ادراک سے عاجز ہو گئیں اور حواس اس کا وصف بیان کرنے میں قاصر ہیں

تیرے کمال تک بھلا کس کو راہ ہے کہ تیرے بغیر نہایت کسی کو نہیں

چو صبا برت گذر آورد ز بلا کشان خبر آورد

رُخ زرد و چشم تر آورد چہ شود کنی تو عنایتی

جب بادِ صبا تم سے گُزر کر آتی ہے تو بلا کشوں کی خبر لاتی ہے

یہ زرد چہرہ اور پُرنم آنکھ عطا کرتی ہے، اگر تُو مجھ پر عنایت کرے تو کیا ہو

قدمی نہی تو بہ بسترم سحری ز فيص خود از کرم

بہ ہوای قرب تو بر پرم بہ دو بال دہم بجناحتی

اگر تُو مہربانی کرتے ہوئے سحر کے وقت میرے بستر پر اچانک قدم رکھے 

تو میں تیرے قرب کی آرزو میں دونوں پروں سے پرواز کر جاؤں

برہانيم چو از اين مکان بکشانيم سوی لامکان

گذرم ز جان و جہانيان کہ تو جان و جانده خلقتی

اگر تو مجھے اس مکان سے نجات دلائے اور لامکاں کی طرف کھینچ لے 

کیونکہ جان تُو ہی ہے اور جان عطا کرنے والا بھی تُو ہی


قرۃ العین طاہرہ

No comments:

Post a Comment