خدا کے نام اک خط
خدا میں جانتا ہوں
میں تیرا محبوب نہیں
کہ آسماں کے چکر لگا لوں
اور تم نمازیں پچاس سے پانچ کر دو
مگر اے خالق میں تیرا بندہ
جسے تُو ستر ماؤں جتنا چاہتا ہے
اک عرضی لے کر آیا ہوں
امید ہے بُرا نہیں مانو گے
سن کر ہی فرشتوں سے کہو گے
نوٹیفیکشن نکالو اور پہنچا دو
خدا دنیا میں اربوں لوگ ہیں
اربوں جاندار، پھول، پودے
سب تیری ثناء کرتے ہیں
کرتے ہوں گے کہ تُو خالق ہے
بس میری عرضی ہے
کہ میرا اس کے سوا کوئی نہیں
تو یوں نہیں ہو سکتا کہ
اس کو نماز سے استثنیٰ حاصل ہو
میں جب کہوں مجھ سے بات کرو
تب وہ یہ نا کہے کہ مجھے نماز پڑھنی ہے
علی ارمان
No comments:
Post a Comment