صفحات

Wednesday, 8 June 2022

کچھ نہ پوچھو کس طرح کیسے کہاں رہتا ہوں میں

کچھ نہ پوچھو کس طرح، کیسے، کہاں، رہتا ہوں میں

کیف و کم مفقود ہیں اس جا جہاں رہتا ہوں میں

اے تمنا! دیکھ تُو نے ہر جگہ رسوا کیا

اس جگہ سے پھیر لے رُخ اب یہاں رہتا ہوں میں

اک تمہاری ان سُنی نے گُنگ کر ڈالا مجھے

ترک کر دی گفتگو اب بے زباں رہتا ہوں میں

خود اٹھاتا ہوں میں اپنی میزبانی کا شرف

اپنی ہی آغوش کا اب میہماں رہتا ہوں میں

نقش کھنچوا کر جبیں پر سنگِ در کے نور سے

جاگتے سوتے بھی زیرِ آستاں رہتا ہوں میں

اک جہاں آراء تخیل کو بنا کر راہبر

بے نیازِ شیوۂ کوئے بُتاں رہتا ہوں میں

شعر کہہ لیتا ہوں اور اکمل تخلص ہے مِرا

بس یہی سادہ پتہ ہے بے نشاں رہتا ہوں میں


افضال اکمل قاسمی

No comments:

Post a Comment