خواب ہے تو خواب ہی سہی
تو پھر چلو نا
چلو
چلو خواب میں ملتے ہیں زُہرا
خواب میں ملتے ہیں
اور اسی خواب میں
پھر سے اک نیا خواب بُنتے ہیں
خواب میں تتلیاں ہیں
جگنو چاند اور تارے ہیں
خواب میں تم میرے ہو
اور یہ سب تمہارے ہیں
خواب میں ہم بھیگتے ہیں
جیسے کوئی بارش ہو
خواب ایک دھندلی وادی ہے
جیسے بادلوں کی سازش ہو
خواب میں سب خواب سا ہے
ہر اک چہرہ جناب سا ہے
خواب جیسے کوئی پھول نگر ہے
کچھ موتیا تھوڑا گلاب سا ہے
تو چلو نا
اس خواب میں چلتے ہیں
ہاشم ندیم
No comments:
Post a Comment