صفحات

Wednesday, 8 June 2022

میں زہر ملی شراب ہوں ذرا مجھ سے اجتناب

 میں زہر ملی شراب ہوں ذرا مجھ سے اجتناب

بندہ بڑا خراب ہوں،۔ ذرا مجھ سے اجتناب

میں گناہ ہوں توبہ سے بعد کا میں درد ہوں

میں خوں بہا کا ثواب ہوں ذرا مجھ سے اجتناب

میں وہ شجر ہوں جو منع ہوا بہشت میں

میں بھول کا حساب ہوں ذرا مجھ سے اجتناب

میں وہ سجدہ ہوں جو نہیں ہوا ابلیس سے

میں کوئی خانہ خراب ہوں ذرا مجھ سے اجتناب

میں خواب ہوں فرعون کا یوسف کی ہوں تعبیر

میں قحط ہوں عذاب ہوں ذرا مجھ سے اجتناب

میں نو نشانیاں مصر کی،۔ میں قہر ہوں

میں نیل ہوں میں آب ہوں ذرا مجھ سے اجتناب

میں کنعاں کا کنواں تاریک سا اُجاڑ سا

میں یعقوبؑ چشم بیتاب ہوں ذرا مجھ سے اجتناب


زاویار ولی

No comments:

Post a Comment