صفحات

Thursday, 9 June 2022

تجھ سے محو گفتگو ہونا پڑا

 تجھ سے محوِ گفتگو ہونا پڑا

میں سے ہجرت کر کے تُو ہونا پڑا

میں ابھی جی بھر کے جی پایا نہ تھا

موت تیرے رو برو ہونا پڑا

میں پریشانی میں گھرتا تھا کبھی

اور حیراں بھی کبھو ہونا پڑا

میری حسرت تھی کبھی تو ماہ وش

مجھ کو تیری آرزو ہونا پڑا

سامنے لشکر تھا جو وہ حق پہ تھا

حق پہ مجھ کو اے عدو ہونا پڑا

تجھ سے ملتا جلتا ہونا چاہا تھا

ہو گیا تو ہو بہ ہو ہونا پڑا


اعزاز کاظمی

No comments:

Post a Comment