ہر اک سخن سے ہر اک بات سے زیادہ ہے
"تِرا فراق ملاقات سے زیادہ ہے"
تمہارا دیکھنا بھوکے کے واسطے روٹی
تمہارا بولنا خیرات سے زیادہ ہے
یہ اس کا سایہ ہے تو چھاؤں سے گھنا ہے مجھے
یہ اس کی بات ہے تو بات سے زیادہ ہے
میں جتنا ہجر میں رویا ہوں پھوٹ پھوٹ کے دوست
جنوبی صوبے کی برسات سے زیادہ ہے
تمہارے پاؤں کا بوسہ جسے نصیب ہوا
اسے غرور بھی اوقات سے زیادہ ہے
علیؑ کا فیصلہ قانون ہے ہمارے لیے
عمرؓ کا بولنا تورات سے زیادہ ہے
آل عمر
No comments:
Post a Comment