صفحات

Thursday, 9 June 2022

اداسیوں کا اجاڑ موسم کبھی ستائے تو مجھ سے کہنا

 اداسیوں کا اجاڑ موسم کبھی ستائے تو مجھ سے کہنا

نہ ان اندھیروں میں ہاتھ تم سے کوئی ملائے تو مجھ سے کہنا

مجھے یقیں ہے کہ مجھ سے بڑھ کر تمہیں کسی نے نہیں ہے چاہا

مِری طرح سے کوئی تمہیں جب گلے لگائے تو مجھ سے کہنا

یہ بن سنور کر جو تم نے ماتھے پہ ایک جھومر سجا لیا ہے

مگر سجایا تھا جیسا میں نے کوئی سجائے تو مجھ سے کہنا

محبتوں میں عذاب لگتا ہے ہجر لیکن نہیں ہے ایسا

مگر نظر سے فراق تیری نظر ملائے تو مجھ سے کہنا

نہ ہر کسی پر یقین کرنا بغیر سوچے بغیر سمجھے

تمہیں کوئی بھی جو میرے بارے میں کچھ بتائے تو مجھ سے کہنا

میں تیری یادوں کی آخری حد میں نقش ایسے ہوا ہوں جاناں

خیال میرا تمہیں جو اک پل بھی بھول جائے تو مجھ سے کہنا

بہت کہا تھا یقین رکھنا کہ زین! تم سے جدا نہیں ہے

اگر ذرا سا بھی میری باتوں میں فرق آئے تو مجھ سے کہنا


زین شکیل

No comments:

Post a Comment