کچھ پڑھ کے پھونکیے مرشدی نہیں ہو رہا
کوئی عشق بھی مِرا آخری نہیں ہو رہا
ابھی اور درد میں ڈوبنے دے یہ جسم و جاں
یہ جو ہجر ہے، ابھی دائمی نہیں ہو رہا
تجھے کیا خبر کہ میں کر چکا ہوں یہ کوششیں
تِرا خواب آنکھ سے ملتوی نہیں ہو رہا
مِری بات سن کوئی اور حل ہے تو وہ بتا
یہ جو عشق ہے، مجھے واقعی نہیں ہو رہا
تُو ملائکہ کی تلاش میں ہے ارے میاں
یہاں آدمی، ابھی آدمی نہیں ہو رہا
کوئی روز اور تو خاک اُڑا، یونہی بین کر
مِرا شہرِ جاں، ابھی ماتمی نہیں ہو رہا
تِرا حکم ہو تو میں پھینک دوں کہیں عشق کو
اِسے سر پہ رکھ کے تو کام بھی نہیں ہو رہا
میں نے لے لیا تھا جو گِروی رکھ کے نگاہ کو
وہی ایک خواب ابھی واپسی نہیں ہو رہا
ابھی اور درد سُنا مجھے میرے شاہ کے
کوئی اشک بھی ابھی مجلسی نہیں ہو رہا
اسی کافرہ کے حصار میں ہے یہ مرشدی
دلِ بد قماش ابھی متقی نہیں ہو رہا
میثم علی آغا
No comments:
Post a Comment