صفحات

Wednesday, 13 July 2022

دوسرے جسم کی خواہش

 دوسرے جسم کی خواہش


آج پت جھڑ سے جیون میں پہلے پہل

میرے بے رنگ بنجر بدن کی زمیں

کلبلانے لگی

زلزلہ جسم میں ایسا برپا ہوا

سب دفینے خزینے بدن سے ابلنے لگے

آبلوں اور چھالوں کے انکر نکلنے لگے

لال پیلے ہرے بیگنی کتھئی

زخم کے پھول کھلنے لگے

میرے بے رنگ بنجر بدن کی زمیں لہلہانے لگی

میری حیرت بڑھانے لگی

میری مٹی بھی اپجاؤ ہے اس قدر

میں نے سوچا نہ تھا

اک مہینے میں

زخموں کی چھے سات فصلیں کٹیں

زندگی بھر کی محرومیوں کا گِلہ مٹ گیا

جسم کی لہلہاتی زمیں دیکھ کر میرا جی خوش ہوا

زخم پہلا جو تھا، داغ ہے

دوسرا سوکھنے کے مراحل میں ہے

تیسرا پھول کی شکل کھلتا ہوا

اور چوتھا کلی کی طرح ہے چٹکتا ہوا

پانچواں ہو بہو ہے کلی

اور چھٹا کیچوے کی طرح

گیلی مٹی میں آہستہ سے رینگتا ہے ابھی

ساتواں کلبلاتا ہے زیر زمیں

آٹھواں مسکراتا ہے مجھ پر عدم میں کہیں

پاؤں جیسے مِرے مور کے ہو گئے

ہاتھ نرگس کا دستہ ہوا

جسم پر داغ آنکهوں سے کھلنے لگے

اے خدا! اس نوازش پہ تیرا بہت شکر ہے

لیکن اب

اس بدن کی زمیں

آنے والی نئی فصل کے واسطے تنگ پڑنے لگی

میرے مالک تُو اب

آبلوں کی نئی فصل کو روک دے

یا مجھے دوسرا جسم دے


عتیق انظر

No comments:

Post a Comment