کنارِ چشم سے دیکھا ہے خوف کھاتے ہوئے
لرزتی ڈولتی دنیا کو ڈوب جاتے ہوئے
کسی نے ہم سے نہ پوچھا ہمارے خواب کا رنگ
یہ رنگ رنگ کے پرچم ہمیں تھماتے ہوئے
ہے شور خانۂ دنیا،۔ گلی کے نکڑ پر
میں کان بند ہی رکھتا ہوں آتے جاتے ہوئے
کوئی تو آ کے خبر لے کہ بجھتا جاتا ہے
فقیر شب کے اندھیرے میں دن ملاتے ہوئے
تمہارے پاؤں جمے ہیں سو تم نہ سمجھو گے
حیات کیسے گزرتی ہے لڑکھڑاتے ہوئے
بھلا ہو ماہِ محبت کی نور پاشی کا
ہم ایسے لوگ بھی جیتے ہیں جگمگاتے ہوئے
میں دردِ ہجر کی شدت سے خوب واقف ہوں
سو آسرا تمہیں دیتا ہوں ڈگمگاتے ہوئے
کبھی کبھار سڑک پر میں خود سے ملتا ہوں
کسی کو چھوڑ کے آتے، کسی کو لاتے ہوئے
شہزاد نیر
No comments:
Post a Comment